دعوی تنسیخ نکاح بر بنائے خلع
بعدالت جنا ب فیملی جج صاحب سمبڑیال
مدعیہ بنام مدعاعلیہ
جناب عالی!۔
مد عیہ حسب ذیل عرض گزارہے۔
1۔ یہ کہ مدعیہ کا نکاح ہمراہ مدعا علیہ بمطابق شرع محمدی مورخہ01-02-2026بمقام سمبڑیال، تحصیل سمبڑیال ضلع سیالکوٹ بشرع محمدی بالعوض حق مہر مبلغ 10,000/-روپے سرانجام پایا۔(نقل نکاح نامہ لف ہذ اہے)۔
2۔ یہ کہ بعداز نکاح تاحال رخصتی عمل میں نہ لائی گئی ہے۔
3۔ یہ کہ تاحال مدعیہ رخصت ہوکر مدعاعلیہ کے گھر آباد نہ ہوئی ہے،اور مدعاعلیہ کارویہ فو ن پر ہمراہ مدعیہ ٹھیک نہ رہا ہے، مدعاعلیہ مدعیہ کو فون پر دھمکیاں دیتا ہے کہ وہ مدعیہ کو کبھی بھی رخصت کرکے اپنے گھر آباد نہ کرے گا اور مدعیہ کو یونہی زندگی بھر ذلیل و رسوا کرے گا۔
4۔ یہ کہ مدعاعلیہ نے نہ تو مدعیہ کو آباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی آبا د کرنے کی کوئی خواہش رکھتا ہے، اور نہ ہی کوئی خرچہ نان ونفقہ دیا ہے۔بدیں وجہ مدعیہ کو مدعاعلیہ سے شدید نفرت ہو چکی ہے اس لیے اب مدعیہ مدعا علیہ کے ساتھ رخصت نہ ہونا چاہتی ہے۔ اس لئے مدعیہ تنسیخ نکاح وخلع کی ڈگری کی حقدارہ ہے۔
5۔ یہ کہ ہر چند مدعا علیہ کو کہااور کہلوایا گیا ہے کہ مدعاعلیہ مدعیہ کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے۔مگر مدعاعلیہ ایسا تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
5۔ یہ کہ بنائے دعوی عرصہ2روز قبل قطعی انکار سے پیدا و حاصل ہوئی جو تاحال جاری ہے۔
7۔ یہ کہ رہائش مدعیہ اندر حدود عدالت حضور واقع ہے لہذا عدالت حضور کو اختیار سماعت دعوی ہذا حاصل ہے
8۔ یہ کہ دعوی ہذا پر بمطابق قانون کورٹ فیس چسپاں کر دی گئی ہے۔
بحالات بالا استدعا ہے کہ ڈگری تنسیخ نکاح بربنائے خلع بحق مدعیہ برخلاف مدعاعلیہ صادر فرمائی جاوئے۔نیزدیگر دادرسی جو قرین انصاف ہو وہ بھی دلائی جائے۔ مورخہ
عرضے
(مدعیہ)
بذریعہ کونسل:
